Kalkoti: A Distinct Language
of Kalkot, Kumrat Valley, Upper Dir
A Significant Milestone in
Preserving the Linguistic and Cultural Heritage of Dir Kohistan
Dir Kohistan is rich in history,
cultural traditions, and linguistic diversity. The majority of the population
in the region speaks Gawri, a language belonging to the Dardic group. However,
the village of Kalkot, located in Kumrat Valley, Upper Dir, Khyber
Pakhtunkhwa, is home to a distinct language known as Kalkoti. This language
represents an important part of the region's unique linguistic and cultural
identity.
In a significant step towards
preserving this linguistic heritage, the first alphabet of the Kalkoti language
was unveiled in Kalkot with the support of the Forum for Language
Initiatives (FLI), an organization dedicated to the documentation,
promotion, and preservation of Pakistan's indigenous languages.
The inauguration ceremony was
attended by local residents and representatives of FLI, who gathered to mark
this important occasion for the Kalkoti-speaking community.
The introduction of the Kalkoti
alphabet represents an important milestone in efforts to develop a written form
of the language, document its vocabulary and traditions, and create
opportunities for future generations to learn to read and write in their mother
tongue. Such initiatives can play a vital role in safeguarding languages that
are spoken by relatively small communities and are at risk of being neglected.
Language is more than a means of
communication; it carries a community's history, traditions, cultural values,
and collective identity. The introduction of the Kalkoti alphabet is therefore
not only a significant achievement for the people of Kalkot but also a valuable
contribution to the preservation of the linguistic diversity of Dir Kohistan.
Preserving Kalkoti means preserving an important part of the cultural and linguistic heritage of Kalkot and the wider Dir Kohistan region.
22 جون کو دیر کوہستان کے گاؤں کلکوٹ میں دریاۓ پنجکوڑہ کے بائیں جانب کوہ ہندوکش کے دامن میں ایک پُر فضا مقام پر ملک مصری خان کے ہجرے میں کلکوٹی زبان کے پہلے الف بے (قاعدہ) کی تقریب رونمائی کی خوبصورت محفل سجی۔ جس کے کامیاب انعقاد کےلئے FLI اور KCWO (کلکوٹی کمیونٹی ویلفیئر آرگنائزیشن) نے سر توڑ اور انتھک کوششیں کیں ۔ سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر اور ویڈیوز میں لوگوں کا جذبہ، جوش و خروش قابل دید تھا جس سے یہ تاثر اُبھر رہا تھا کہ مقامی عوام کو زبان اور لوک ادبی محفلوں سے جنون کی حد تک اُنس و محبت ہے۔ بظاہر یہ پہلی کلکوٹی حروف تہجی کی تقریب رونمائی تھی لیکن ایسا ہرگز نہیں تھا بلکہ یہ کلکوٹی زبان، ثقافت اور تہذیبی ورثے کا پہلا باقاعدہ تاریخی سیمینار تھا ۔
کلکوٹی زبان کا شمار بھی ہند آریائی زبانوں میں ہے جو بالائی پنجکوڑہ کے گاؤں کلکوٹ کے پانچ قبائل (ماسواۓ داراگی قبیلے) بولتے ہیں۔ آج سے بیس سال پہلے ڈاکٹر ہینرک للیگرین نے اپنے مقالے
Notes on Kalkoti: A Shina Languages with Strong Kohistani Influences
میں کلکوٹی زبان کو شینا لسانی گروپ کی زبان قرار دی۔ ان سے پہلے اس زبان کے بارے میں نہ تو کسی کو علم تھا اور نہ ہی اس زبان پر کوئی دستاویزی مواد موجود تھے. مقامی لوگ اس زبان کو بشوری کہتے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق کلکوٹی بولنے والوں کی تعداد سولہ ہزار نفوس سے بھی زیادہ ہے ۔
تقریب رونمائی کے انتظامات " کلکوٹی کمیونٹی ویلفیئر آرگنائزیشن" کے ذمہ داران اور " فیلو آف لینگوج انیشیٹیو " کی شراکت سے کئے گئے تھے۔ اس تقریب میں مقامی سفید ریش، عمائدین، طلباء، زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ افراد اور کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کی ۔
سٹیج سیکرٹری کے فرائض سابقہ اے ایس ڈی یو نے محمد اقبال صاحب نے سر انجام دیئے۔ ملک مصری خان نے تقریب کے شرکاء کو کلکوٹی زبان میں خوش آمدید کہا۔ سابقہ محمد علی نے اپنی تقریر میں کہا کہ کلکوٹی زبان کا قاعدہ میرا خواب تھا جو آج پورا ہوا۔ انہوں نے ایف ایل آئی کے ڈائریکٹر کا شکریہ ادا کیا اور انہیں اپنی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ مولوی گل نور شاہ نے اسلامی نقطہ نظر سے زبان کی اہمیت و تاریخ پر مفصل روشنی ڈالی۔ سپین خان ایڈوکیٹ، حاجی لال خان بھی سیمینار کے شرکاء سے مخاطب ہوئے ۔
ایف ایل آئی بورڈ کے چئیرمین روزی خان برکی، ڈائریکٹر FLI فخرالدین آخونزادہ ، نامور ماہر لسانیات و سکالر رازول کوہستانی بھی اس پُروقار تقریب میں جلوہ افروز تھے۔ FLI کے ٹریننگ منیجر نسیم حیدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ FLI گزشتہ پانچ سالوں سے KCWO کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ ہم نے اس کے ارکان کو دستاویز بندی کی مختلف ٹریننگ دی، لکھائی کے نظام پر کام کرکے حروف تہجی کا پہلا قاعدہ بنایا، کمپیوٹر اور اینڈرائڈ موبائل کے ہارڈ بنائے جس کی بدولت آج کلکوٹی زبان کے بولنے والے ڈیجیٹل آلات پر اپنی زبان کا ہی Keyboard استعمال کرتے ہیں ۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں تقریباً 7000 ہزار زبانیں بولی جاتیں ہیں۔ جن میں 500 کے لگ بھگ زبانیں مٹنے کے قریب ہیں۔ پاکستان میں خطرے سے دوچار زیادہ تر زبانوں کا تعلق شمالی پاکستان سے ہے۔ اگر ریاست ان زبانوں کی ترویج اور ان کو بچانے کےلئے بروقت عملی اقدامات نہیں کر پائی تو وہ دن دور نہیں کہ ان زبانوں کا نام و نشان تک باقی نہیں رہے گا۔ بڑی زبانیں چھوٹی زبانوں نگل جائیں گی۔ بالائی پنجکوڑہ میں گاوری، کلکوٹی، پشتو، گوجری اور انڈس کوہستانی بولی جاتی ہے ۔


No comments:
Post a Comment